ریودی جنیور ،19اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکہ کی اولمپک کمیٹی نے اپنے چار تیراکوں کی جانب سے کی جانے والی غلط بیانی پر معافی مانگی ہے کہ انھیں برازیل کے شہرریو ڈی جنیور میں گن پوائنٹ پر لوٹا گیا تھا۔جمعے کو برازیل میں پولیس کی جانب سے تفتیش کا سامنا کرنے والے دو امریکی تیراک گونر بنٹز اور جیک کونگر ریو ڈی جنیرو سے روانہ ہوئے۔خیال رہے کہ یہ دونوں تیراک بدھ کو برازیل چھوڑ کر جا رہے تھے تاہم اتوار کو ایک پیٹرول پمپ پر توڑ پھوڑ کے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں انھیں جہاز سے اتار لیا گیا تھا۔اس سے قبل یہ خبر آئی تھی کہ ریو ڈی جنیرو میں اولمپکس مقابلوں میں شرکت کرنے والے چار امریکی تیراکوں کے ساتھ ڈکیتی کی واردات پیش نہیں آئی تھی اور انھوں نے پولیس سے غلط بیانی کی تھی۔امریکہ کی اولمپک کمیٹی نے اپنے بیان میں تیراکوں کے رویے کوناقابلِ قبول کہا ہے۔جمعرات کو پولیس سربراہ فرنینڈو ویلوسو نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ کھلاڑیوں میں سے ایک یا ایک سے زیادہ افراد نے ایک پیٹرول سٹیشن پر توڑ پھوڑ کی تھی اور بعد میں اس نقصان کے ازالے کے طور پر رقم ادا کرنے کی پیش کش کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ مسلح گارڈ کی مداخلت پر امریکیوں نے رقم ادا کی اور چلے گئے۔فرنینڈو ویلوسو کا کہنا تھا کہ جب ایک تیراک نے تذبذب کا مظاہرہ کیا تو ایک گارڈ نے اس پر بندوق تان لی تھی۔پیٹرول پمپ پر تکرار کے دوران پولیس کو بھی بلالیاگیا تھا تاہم پولیس کے وہاں پہنچنے سے قبل تیراک وہاں سے جاچکے تھے۔
تیراکی کے مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والے امریکی تیراک رائن لوکٹی، جیمی فیجن اور تیراکی کی ٹیم کے دیگر دو ممبران جیک کونگر، گونر بنٹز نے کہا تھا کہ مسلح افراد نے انھیں ریو میں لوٹ لیا تھا۔چار میں سے تین تیراکوں کو پوچھ گچھ کے لیے پولیس نے برازیل میں روک لیا تھا جبکہ طلائی تمغہ جیتنے والے چوتھے تیراک رائن لوکٹی منگل کو ہی امریکہ لوٹ گئے تھے۔ان کے ساتھی تیراک جیمز فیجین بھی برازیل میں ہی ہیں۔امریکہ کی اولمپک کمیٹی نے تیراکوں کے رویے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا یہ عمل امریکی ٹیم کی اقدار کی ترجمانی نہیں کرتا۔اس سے قبل برازیلین پولیس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان افراد نے پیٹرول سٹیشن کے باتھ روم کے دروازے کو نقصان پہنچانے کے تنازعے کو چھپانے کے لیے ڈکیتی کی کہانی گھڑ لی تھی۔
فرنینڈو ویلوسو کا کہنا ہے کہ تیراکوں نے مسلسل اپنے بیانات تبدیل کیے اور وہ غلط بیانی اور توڑ پھوڑ کے مقدمات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ریو کی عوام شہر کی بدنامی پر ناخوش ہیں اور اس حوالے سے معذرت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔خیال رہے کہ تیراکی کے مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والے امریکی تیراک رائن لوکٹی، جیمی فیجن اور تیراکی کی ٹیم کے دیگر دو ممبران جیک کونگر، گونر بنٹز نے کہا تھا کہ مسلح افراد نے انھیں ریو میں لوٹ لیا تھا۔تاہم مبینہ ڈکیتی کی واردات کے حوالے سے تیراکوں کے بیان شروع سے ہی تضاد دیکھا گیا تھا۔
رائن لوکٹی نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی فیجین، گنر بنٹز اور جیک کونگر فرانسیسی اولمپک ٹیم کے ایک پروگرام میں شرکت کے بعد ٹیکسی میں واپس ایتھلیٹکس ویلج جا رہے تھے کہ راستے میں ان کو روک کر لوٹ لیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں نے مسلح پولیس کی وردی پہن رکھی تھی اور ایک شخص نے ان کے سر پر بندوق رکھی اور رقم اور دیگر استعمال کی اشیا کا مطالبہ کیا۔تاہم اس کیس کی تفتیش کرنے والی پولیس کا کہنا تھا کہ انھیں ڈکیتی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ پولیس کی جانب سے تیراکوں کے بیانات میں ڈاکوؤں کی تعداد کے حوالے سے بھی تضاد پایا گیا ہے۔خیال رہے کہ رائن لوکٹی کا شمار دنیا کے کامیاب ترین تیراکوں میں ہوتا ہے اور وہ 12 اولمپک میڈل جیت چکے ہیں۔ریو اولمپکس میں انھوں نے 4x200فری سٹال ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا ہے۔ان کے ساتھی تیراک فیجین نے بھی 4x100میٹر فری سٹائل ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔